فهرس الكتاب

الصفحة 3476 من 6348

ف 9 یعنی ان کے مال و دولت میں شامل ہو کر بیٹھ جائے۔ ف 10 یعنی اللہ تعالیٰ اس میں کوئی برکت نہیں دیتا بلکہ وہ آدمی کے لئے دنیا و آخرت دونوں میں وبال اور لعنت کا سبب بنتا ہے۔ بعض مفسرین (جیسے قتادہ ضحاک اور عکرمہ وغیرہ) کیا خیال ہے کہ اس آیت میں ربا سے مراد و سود نہیں جو شرعًا حرام کیا گیا ہے بلکہ اس سے وہ عطیہ یا تحفہ مراد ہے جو آدمی دوسرے کو اس نیت سے دے کہ وہ بعد میں اس سے زیادہ واپس کرے گا۔ ایسا عطیہ دینا حرام نہیں ہے لیکن اس کا کوئی ثواب بھی نہیں ملتا۔ ان کے خیال میں فلا ربوا عند اللہ" (وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا) کا یہی مطلب ہے۔ واللہ اعلم (قرطبی) ف 11 دس گنے سے سات سو گنے تک دراصل اس بڑھوتری کا انحصار انسان کی نیت اور جذبہ پر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت