ف 2 یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو بنی آدم کے لیے جائے سکونت قرار دیا ہے کہ مر نے کے بعد اس زمین میں مد فون ہوں اور قیامت کے دن سے زندہ ہو کر نکلیں جیسا کہ سورت طحہٰ میں فرمایا: منھاخلقنا وفیھا نعید کم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔ اسی مٹی سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ تمہیں نکالیں گے ( آیت 55)