فهرس الكتاب

الصفحة 5215 من 6348

ف 7 یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت سے بعید نہیں ہے کہ جو کافر آج تمہارے بد ترین دشمن ہیں وہ کل انہیں توفیق دے اور وہ مسلمان ہوجائیں اور اس طرح تمہارے اور ان کے درمیان درست تعلقات قائم ہوجائیں۔ چنانچہ فتح مکہ کے بعد ایسا ہی ہوا۔ اس آیت سے مقصود مسلمانوں کو تسلی دینا ہے کہ کفار مکہ سے ترک موالات کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ صرف تھوڑے رصہ کے لئے ہے جلد ہی ایسے حالات پیش آئیں گے کہ تمہیں اس پر عمل کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ (موضح)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت