5۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی یا قیامت کے دن میری رحمت (جنت) سے مایوس ہوجائیں گے۔ یہ چند آیات کفار مکہ کی تذکیر و تحذیر کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور جملہ معترضہ ہیں۔ ان کے بعد پھر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا قصہ شروع ہو رہا ہے۔ (قرطبی)