فهرس الكتاب

الصفحة 5137 من 6348

ف 8 یعنی جس میں اس نے تمہیں پچھلے لوگوں کا وارث بنایا یا اپنا غائب بنا کر تصرف کا اختیار دیا۔ ف 9 مطلب یہ ہے کہ جو اموال تمہارے قبضہ میں ہیں حقیقت میں ان کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ تم محض امین و خزانچی ہو۔ لہٰذا جہاں وہ حکم دے وہیں اس کے نائب ہونے کی حیثیت سے خرچ کرو او اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھو کہ سال پہلے دوسروں کے قبضہ میں آیا۔ اسی طرح تمہارے مرنے کے بعد تمہارے وارثوں کے قبضہ میں چلا جائے گا۔ اس میں سے تمہارے کام صرف وہی آئے گا جو تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو گے۔ ف 10 یعنی جنت لہٰذا ایمان کے مقضی کے مطابق عمل کرو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت