فهرس الكتاب

الصفحة 441 من 6348

ف 6 ربییون یہ ربہ کی طرف ہے جس کے معنی جماعت کے ہیں اور یہ جملہ حالیہ ہے ای دمعہ ربییون کثیر استکا نوا۔ یہ سکون سے باب افتعال ہے کاف کے بعد الف بر ائے اشباع ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کون سے استفعال ہو لیکن پہلے اشتقاق کی آیت کے معنی سے زیادہ منا سبت ہے۔ (قرطبی۔) ان تینوں آیتوں سے مقصود ان لوگوں پر عتاب ق اور تنبیہ جو احد کے دن شکست کے آثار دیکھ کر ہمت ہار بیٹھے اور آنحضرت ﷺ کی شہادت کی افواہ سن کر بالکک ہی پست ہوگئے پس فرمایا تم سے پہلے انبیا کے متبعین گزر چکے ہیں ان کی اتباع کرو اور اس قسم کی کمزوری نہ دکھا و (قرطبی ابن کثیر) یعنی ان لوگوں میں بہت سے رتیون اپنے انبیائ کے ساتھ مل کر جہاد کرتے رہے لیکن انہوں نے اپنی قلت تعداد اور بے سرو سا مانیے باوجود کبھی ہمت نہ ہاری اور نہ کبھی اپنے انبیا کے وفات پا جانے یا شہید ہوجا نے کے بعد کی صورت میں وساوس میں مبتلا ہوئے ہمیشہ اور ہر حال میں صبر و استقلال سے کام لیتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا و آخرت دونوں کے ثواب سے نواز دیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت