5۔ یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب " ما یدعون" کے " ما" کو استفہامیہ قرار دیا جائے اور اگر اسے نافیہ قرار دیا جائے تو ترجمہ یوں ہوگا۔ " اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ لوگ اس لے سوا کسی چیز کو نہیں پکارتے یعنی وہ کوئی چیز نہیں ہے کہ اسے پکارنا ان کے کسی کام آسکے اور یہاں ایک تیسرا احتمال بھی ہے کہ " ما" مصدر بیان لیا جائے۔ (شوکانی) 6۔ اسی کو پکارنا، اسی کے سامنے التجائیں کرنا اور اسی سے مرادیں مانگنا کام آسکتا ہے۔