ف 5 مطلب یہ ہے کہ اسلامی شریعت سے زائد یہودیوں کی شریعت میں جو چیزیں حرام پائی جاتی ہیں ان سے کوئی یہ نہ مجھے کہ یہ چیزیں ہمیشہ کے لئے بلکہ یہ تو وقتی طور پر یہودیوں کی اپنی شرارت اور سرکشی کی بدولت ان پر حرام کی گئی تھیں ورنہ ان کی حرمت ابدی نہیں ہے۔ (کذافی شوکانی دیکھئے سورۃ انعام)