فهرس الكتاب

الصفحة 385 من 6348

ف 5 یعنی یہود پہلے اقرار کرتے تھے یہ نبی تحقیقی ہے جب ان سے معاملہ ہو اتو وہ منکر ہوگئے۔ (موضح) اور ایسے لوگ بھی اس کا مصداق ہو سکتے ہیں جو اسلام سے مردتد ہونے کے بعد موت کے وقت تک کفر پر قائم رہتے ہیں انے بارے میں فرمارہے ہیں کہ حالت نزع میں اگر یہ لوگ توبہ کریں گے بھی تو ان کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد: یقبل توبتہ العبد مالم یغر غر۔ کہ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک ہوجان کنی کی حالت تک نہ پہنچ جائے۔ (ترمذی۔ نسائی) نیز دیکھئے (النسا آیت: 18) اور الضالون سے مراد کامل درجہ کے گمراہ ہیں (کبیر)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت