فهرس الكتاب

الصفحة 1000 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: عورتوں کی صفیں

1000 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وعَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا»

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عورتوں کی بہترین صفیں آخری ہیں۔ اور سب سے نکمی ( کم ثواب والی) صفیں پہلی ہیں۔ اور مردوں کی بہترین صفیں پہلی ہیں اور سب سے نکمی صفیں آخری ہیں۔ ''

1۔بہترین صف سے مراد وہ صف ہے۔جس میں ثواب سب سے زیادہ ہے۔اور سب سے نکمی صف سے مراد وہ صف ہے۔جس میں ثواب سب سے کم ہے۔تاہم ثواب اس میں بھی موجود ہے2۔عورتوں کی پچھلی صفوں کے افضل ہونے کی حکمت یہ ہے کہ وہ مردوں کے اختلاط سے دور ہوتی ہیں۔اسی وجہ سے عورت کا گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت