فهرس الكتاب

الصفحة 1261 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: سورج گرہن کی نماز

1261 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَقُومُوا فَصَلُّوا

سیدنا ابو مسعود ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' سورج اور چاند کو لوگوں میں سے کسی کے مرنے پر گرہن نہیں لگتا، جب تم یہ چیز دیکھو تو کھڑے ہو کر نماز پرھو۔''

1۔سورج اور چاند اللہ کی عظیم مخلوقات میں سے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض مشرک اقوام ان کی پوجا کرتی ہیں۔لیکن یہ بھی اللہ کے حکم کے سامنے بے بس ہیں۔اللہ تعالیٰ جب چاہے ان کا نور چھین لیتا ہے۔اللہ کی عظمت کی اس نشانی کے ظہور پر مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ کے سامنے اپنے عجز وانکسار کااظہار کرنے کے لئے نماز پڑھیں۔2۔قیامت کے دن سورج اور چاند کی روشنی ختم ہوجائےگی۔گرہن ہمیں قیامت کی یاد دلاتا ہے۔جو بہت شدید دن ہے۔ گناہ گاروں کو چاہیے کہ قیامت کے شدائد یاد کرکے اللہ کے سامنے جھک جایئں اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔اس لئے اس موقع پر طویل نماز پڑھنا مسنون ہے۔جس کا طریقہ دوسری احادیث میں تفصیل سے مذکور ہ مثلا دیکھئے۔حدیث 1263۔1265۔)3۔جاہلیت میں یہ مشہور تھا کہ گرہن اس وقت لگتا ہے۔جب کسی بڑے آدمی کی وفات ہو یا کوئی عظیم آدمی پیدا ہو۔نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا۔ سورج اور چاند اللہ نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انھیں کسی کے مرنے پر گرہن نہیں لگتا۔لیکن اللہ تعالیٰ ان کے زریعے سے اپنے بندوں ڈراتا ہے۔ (صحیح البخاری الکسوف باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم یخوف اللہ عبادہ بالکسوف حدیث 1048) ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔انہیں نہ کسی کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے۔نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے جب تم لوگ انھیں (گرہن لگا ہوا) دیکھو تو نماز کی طرف توجہ کرو (صحیح البخاری الکسوف باب ھل یقول کسفت الشمس او خسفت ؟حدیث 1047)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت