فهرس الكتاب

الصفحة 3092 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: محرم شکار کا گوشت تب کھا سکتا ہے جب اس کے لیے شکار نہ کیا گیا ہو

3092 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَعْطَاهُ حِمَارَ وَحْشٍ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُفَرِّقَهُ فِي الرِّفَاقِ، وَهُمْ مُحْرِمُونَ»

حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں گورخر (کا گوشت) دیا، اور حکم دیا کہ اسے ساتھیوں میں تقسیم کر دیں جب کہ وہ سب احرام باندھے ہوئے تھے۔

1۔مذکورہ روایت سندًا ضعیف ہے جبکہ معنًا صحیح ہےجیسا کہ سنن نسائی کی روایت سے ثابت ہے کہ آپ نے گوشت نہیں کھایا تھا۔ (سنن النسائيمناسك الحجباب مايجوز اكله من الصيد حديث:2819) لہذا جو شکار کسی نے اپنے لیے کیا ہوپھر وہ احرام والے کو دے دےتو احرام کی حالت میں اس کا گوشت کھانا جائز ہےجیساکہ درج ذیک روایت سے بھی یہ مسئلہ ثابت ہے۔

2۔یہ ہدیہ پیش کرنے والے حضرت بہزی رضی اللہ عنہ تھے۔ (سنن النسائيمناسك الحج باب مايجوز اكله من الصيد حديث:282-) ایک قول کے مطابق ان کا نام حضرت زید بن کعب رضی اللہ عنہ تھا۔ (تقريب التهذيب باب الانساب )

3۔یہ واقعہ مقام روحہ پر پیش آیا۔ (سنن نسائی حوالہ مذکورہ بالا)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت