فهرس الكتاب

الصفحة 3764 من 4341

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل

باب: کبوتر بازی

3764 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى إِنْسَانٍ يَتْبَعُ طَائِرًا فَقَالَ شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانًا

ام المومنین حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے دیکھا کہ ایک آدمی ایک پرندے کا پیچھا کررہا ہےتو فرمایا: ایک شیطان دوسرے شیطان کا پیچھا کررہا ہے ۔

۱ ۔ پرندوں کو کسی جائز مقصد کے لیے پالنا جائز ہے، تا ہم اگر محض تفریح کے لیے ہوں اور وقت کے ضیاع کا باعث ہوں تو ان سے بچنا چاہیے ۔۲۔ ہر وہ مشکل جس جو جائز حد سے زیادہ اہمیت دی جائے اور اس پر وقت اور مال ضائع کیا جائے، وہ ممنوع ہے۔۳۔ کبوتر بازی کی طرح پتنگ بازی بھی فضول اور خطرناک مشغلہ ہے ۔ اس سے بھی اجتناب ضروری ہے۔۴۔ کبوتر کو شیطان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے مفاسد کی وجہ سے شیطان خوش ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت