فهرس الكتاب

الصفحة 3621 من 4341

کتاب: لباس سے متعلق احکام ومسائل

باب: بالوں کو مہندی لگانا

3621 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُخْبِرَانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے ،نبی ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ یہودی اور عیسائی بالوں کونہیں رنگتے، چنانچہ تم ان کی مخالفت کرو۔

۱۔ حا فظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ بالوں کو رنگنے کی بابت لکھتے ہیں: "علماء نے اس حکم کو استحباب پر محمول کیا ہے اس لیے ڈاڑھی یا سر کے سفید بالوں کو رنگنا ضروری نہیں صرف بہتر ہے تا ہم یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے۔ جہاں نہ رنگنے سے مشابہت ہوگی وہاں بالوں کو رنگنا ضروری ہوگا رونہ مستحب۔ " (ریاض الصالحین حدیث: ۱۶۳۸)

۲۔آج کل عیسائی سیاہ خضاب بہت استعمال کرتے ہیں۔اس لیے بہتر ہے کوئی دوسرا رنگ استعمال کیا جائے بالکل سیاہ رنگ سے اجتناب کیا جائے۔

۳۔غیر مسلموں کے مخصوص رسم و رواج اور تہوار (کرسمس بسنت نئے عیسوی سال کی خوشی اور ویلن ٹائن ڈے وغیرہ) ان کے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان میں شرکت سے اجتناب بہت ضروری ہے۔

۴۔ڈاڑھی مونڈنا غیر مسلموں کیا رواج ہے جو سابقہ انبیائے کرام (علیہم السلام) کے طریقے کے بھی خلاف ہے اس لئے یہ حرام ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت