1125 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَهَاوُنًا بِهَا طُبِعَ عَلَى قَلْبِهِ
صحابی رسول سیدنا ابو جعد ضمری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ''جس نے اہمیت نہ دیتے ہوئے تین بار جمعے کی نماز تےرک کر دی، اس کے دل پر مہر لگا دی جائے گی۔''
1۔ (تھاونا) کالفظ ھین سے تعلق رکھتا ہے۔جس کا مطلب معمولی اور غیر اہم چیز ہے۔انسان جس چیز کواہمیت نہیں دیتا۔اس کی ادایئگی میں سستی اور کاہلی سے کام لیتا ہے۔اس لئے اس لفظ کا ترجمہ سستی کرتے ہوئے بھی کیاجاتاہے۔2۔دل پر مہر لگ جانا بعض گناہوں کی سزا کے طور پر ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں دل خیر وشر میں امتیاز سے محروم ہوجاتا ہے۔پھر ا س کو نیکی سے محبت اور بُرائی سے نفرت نہیں رہتی۔جب دل کی بیماری اس درجہ تک پہنچ جائے۔تو پھر ہدایت کی اُمید بہت ہی کم رہ جاتی ہے۔مومن کو اس خطرناک مرحلے سے بچنے کے لئے نمازوں کاخاص طور پر جمعے کابہت خیال رکھنا چاہیے۔