فهرس الكتاب

الصفحة 1687 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: روزے کی حالت میں بیوی سے مباشرت کرنے کا بیان

1687 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ دَخَلَ الْأَسْوَدُ وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ كَانَ يَفْعَلُ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ

ابراہیم نخعی ؓ سے روایت ہے کہااسود اور مسروق ام المومنین عائشہ ؓا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: کیا رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں مباشرت کیا کرتے تھے؟ ام المومنین نے فرمایا: آپ ﷺ ایسے کر لیا کرتے تھے لیکن آپ ﷺ کو اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو حاصل تھا۔

1۔مرد قابل احترام قانون سے اور عورتیں قابل احترام مرد سے ادب واحترام کا لہاظ رکھتے ہوئے شرم وحیا سے تعلق رکھنے والے معاملات کے مسائل دریافت کریں تو کوئی حرج نہیں۔2۔اس قسم کے مسائل پوچھتے اور بتاتے ہوئے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط سے کام لینا چاہے تاکہ مسئلہ بھی معلوم ہوجائے اور فحش گوئی بھی نہ ہو۔3۔مباشرت سے مراد بوس وکنار اور معانقہ وغیرہ جیسے معاملات ہیں۔4۔یہ جواز اس شخص کے لئے ہے۔جسے اپنی ذات پر اعتماد ہو کہ جائز حد سے تجاوز نہیں کرے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت