فهرس الكتاب

الصفحة 3341 من 4341

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

باب: گھی ڈال کر بنائی ہوئی روٹی(پراٹھے )کا بیان

3341 حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: «وَدِدْتُ لَوْ أَنَّ عِنْدَنَا خُبْزَةً بَيْضَاءَ، مِنْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ، مُلَبَّقَةٍ بِسَمْنٍ، نَأْكُلُهَا» قَالَ: فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَاتَّخَذَهُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَيْهِ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ، هَذَا السَّمْنُ؟» قَالَ: فِي عُكَّةِ ضَبٍّ، قَالَ: «فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے ایک دن رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:''میرا جی چاہتا ہے کہ ہمارے پاس بھوری گندم کی سفید روٹی ہوتی جی میں گھی ملا ہوتا'ہم اسے کھاتے۔''ایک انصاری نے یہ بات سنی اور ایسی روٹی تیار کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر دی۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''یہ گھی کس چیز میں رکھا ہوا تھا؟''اس نے کہا:سانڈے کی (کھال سے بنی ہوئی) کپی میں۔رسول اللہ ﷺ نے یہ روٹی کھانے سے انکار کر دیا۔

[ملبقة] کامطلب اچھی طرح ملا کر یک جان کی ہوئی چیز ہے ۔ (محمد عبدالباقی ۔ حاشیہ سنن ابن ماجہ ) یعنی روٹی میں گھی اس طرح ڈالا گیاتھا کہ وہ مل جل گیا تھا اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ ،چیڑی روٹی ، کے بجائے ،پراٹھا، کیاہے ۔

[عکة] چمڑے کے بنے ہوئے گول برتن کوکہتے ہیں جس میں گھی یا شہد رکھا جاتا ہے ۔ ( النہایۃ ۔مادہ: ع ک ک)

[ضب] کا ترجمہ ،گوہ یا سانڈ، کیا جاتا ہے ۔ دوسرے معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں ۔ واللہ اعلم .

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت