فهرس الكتاب

الصفحة 1318 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: رات کی نماز دو رکعت ادا کرنا

1318 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ رات کو دو دو رکعت نماز ادا کرتےتھے۔

1۔نماز تہجد کو صلاۃ اللیل (را ت کی نماز) کہاجاتا ہے۔کیونکہ اس وقت عشاء کے بعد شروع ہوکر صبح صادق طلوع ہونے پر ختم ہوتا ہے۔2۔نماز تہجد بہت فضیلت کی حامل ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔ (صحیح مسلم الصیام باب فضل صوم المحرم حدیث 1163) 2۔نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنماز تہجد عام طور پر دو دو رکعت کرکے ادا کرتے تھے۔یعنی دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے لیکن چارچار رکعت پڑھنا بھی سنت سے ثابت ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے۔آپ ان رکعتوں کی خوبصورتی اور طول کے بارے میں کچھ نہ پوچھیں (کہ بیان نہیں ہوسکتا) پھر چار رکعتیں پڑھتے آپ ان کی خوبصورتی اور طول کے بارے میں کچھ نہ پوچھیں پھر تین رکعت (وتر) پڑھتے (صحیح البخاری التجد باب قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم باللیل فی رمضان وغیرہ حدیث 1147)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت