فهرس الكتاب

الصفحة 3282 من 4341

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

باب: کھانا کھانے کے بعد ہاتھ پونچھنے کا بیان

3282 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيُّ أَبُو الْحَارِثِ الْمُرَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا زَمَانَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَقَلِيلٌ مَا نَجِدُ الطَّعَامَ، فَإِذَا نَحْنُ وَجَدْنَاهُ، لَمْ يَكُنْ لَنَا مَنَادِيلُ، إِلَّا أَكُفُّنَا، وَسَوَاعِدُنَا وَأَقْدَامُنَا، ثُمَّ نُصَلِّي، وَلَا نَتَوَضَّأُ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: غَرِيبٌ؛ لَيْسَ، إِلَّا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ

حضرت جابر بن عبدا للہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ کے زمانے میں ہمیں کھانا کم ملتا تھا۔ زیادہ گزارہ کھجوروں وغیرہ پر تھا۔) پھر جب ہمیں کھانا میسر آتا تو ہمارے پاس رومال نہیں ہوتے تھے، سوائے ہاتھوں، کلائیوں اور پاؤں کے۔ (ہاتھ کو لگی ہوئی چکنائی وغیرہ اس طرح ادھر ادھر مل لیتے تھے۔) پھر (نیا) وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لیتے تھے۔

امام ابن ماجہ نے کہا یہ روایت غریب ہے۔ اسے صرف محمد بن سلمہ نے بیان کیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت