فهرس الكتاب

الصفحة 2544 من 4341

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل

باب: مومن کی غلطی پر پردہ ڈالنا اور شک کا فائدہ دے کر حد سے بری کر دینا

2544 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا پردہ رکھے گا۔

(1) پردہ پوشی سے مراد کسی کےگناہ یا عیب کو ظاہر کرنےاور تشہیرسے اجتناب کرناہے۔

(2) کوئی انسان عیب یاغلطی سےپاک نہیں ہے لہذادوسروںکو بدنام کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

(3) آخرت میں پردہ رکھنے کا مطلب اس کے گناہوں کی معافی ہے۔

(4) کسی پر احسان کرنے کا اچھا بدلہ دنیا میں ملتا ہےاورآخرت میں بھی۔ انسان دوسرے سےجس قسم کا سلوک کرتاہے اللہ تعالیٰ بھی اس سےویسا سلوک کرتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت