2699 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مسلمان کا یہ حق نہیں کہ اگر اس کے پاس کوئی ایسی چیز موجود جس کے بارے میں وہ وصیت کرنا چاہتا ہو تو وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے بارے میں لکھی ہوئی اس کے پاس موجود نہ ہو۔''
1۔وصیت ایسی چیز ہے کہ ا س کا فائدہ اور ثواب مرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے ، جب وصیت پر عمل کیا جاتا ہے۔2۔ انسان کو اپنی موت کے وقت کا علم نہیں، ممکن ہے بندے کو اس حال میں موت آئے کہ اسے وصیت کرنے کا موقع نہ ملے، اس لیے بہتر ہے کہ وصیت ہر وقت تیار رکھی جائے۔3۔ پہلے سے وصیت لکھ رکھنے کا یہ بھی فائدہ ہے کہ انسان اس میں حسب خواہش تبدیلی کرسکتا ہے۔4۔ قرض اور امانت وغیرہ کی تفصیل ہمیشہ لکھ کر رکھنی چاہیے۔