فهرس الكتاب

الصفحة 1040 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: نماز میں بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنا

1040 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَأَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ لَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا

سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ''مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں بال یا کپڑے نہ سمیٹوں۔''

1۔بال سمیٹنے کامطلب یہ ہے کہ انھیں اکھٹا کرکے اس طرح جوڑا بنا لیا جائے۔جس طرح عورتیں جوڑا بنا لیتی ہیں۔نماز میں اس طرح کرنے سے اجتناب کرناچاہیے۔ اگر پہلے سے جوڑا بنایا ہوا ہوتو کھول کر نماز پڑھیں۔2۔کپڑے سمیٹنے کا مفہوم یہ ہے کہ سجدہ کرتے وقت کپڑوں کو مٹی سے بچانے کےلے سمیٹنے کی کوشش کرنا مناسب نہیں۔3۔حدیث کے ظاہر الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی حالت میں یہ کام ممنوع ہیں۔لیکن سلف نے کہا ہے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے بھی بال اکھٹے ہوں یاکپڑے سمٹے ہوئے ہوں تو انھیں کھول دیاجائے اور پھر نمازشروع کی جائے۔ (المرعاۃ وانجاز الحاجۃ)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت