فهرس الكتاب

الصفحة 1795 من 4341

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل

باب: زکاۃ کا وقت آنے سے پہلے( پیشگی )ادا کردینا

1795 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ الْعَبَّاسَ، «سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ»

حضرت علی بن ابو طالب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عباس ؓ نے واجب ہونے سے پہلے جلدی کرتے ہوئے زکاۃ ادا کرنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔

پیشگی ادائیگی کا مطلب یہ ہے کہ سال پورا ہونے سے پہلے زکاۃ ادا کر دی جائے ۔ وقت آنے پر حساب کر کے کمی بیشی پوری کر لی جائے ۔ یہ جائز ہے ۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ روایت حسن ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت