2335 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلَا يَمْنَعْهُ فَلَمَّا حَدَّثَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: جب کسی سے اس کا ہمسایہ اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اجازت طلب کرے تو (اسے چاہیے کہ) اسے منع نہ کرے۔ (عبدالرحمان اعرج ؓ نے کہا: ) جب حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ حدیث سنائی تو سامعین نے سر جھکا لیے، چنانچہ جب حضرت ابوہریرہ ؓ نے انہیں (اس حال میں) دیکھا تو فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں اس حدیث سے اعراض کرتے محسوس کرتا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں اس (حدیث) کو تمہارے کندھوں پر ماروں گا۔
1۔ دیوار میں لکڑی گاڑنے سے مراد یا تو کھونٹی وغیرہ گاڑنا ہے یا اس سے مراد دیوار پر شہتیر وغیرہ رکھ کر چھت ڈالنا ہے ۔
2۔ کندھوں پر مارنے کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم پسند کرو یا نہ کرو میں تمہیں یہ شرعی حکم سناتا رہوں گا اور تمہیں اس پر عمل کرنا پڑے گا ۔
3۔ بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب تبلیغ میں غصے کا اظہار کرنا درست ہوتا ہے یعنی جب یہ محسوس کیا جائے کہ سامعین پر غصے کا اثر زیادہ ہو گا تو یہ طریقہ بھی درست ہے لیکن اسے عام عادت بنالینا مناسب نہیں ۔