فهرس الكتاب

الصفحة 3906 من 4341

کتاب: خوابوں کی تعبیر سے متعلق آداب و احکام

باب: خواب تین قسم کے ہوتے ہیں

3906 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: فَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ، وَحَدِيثُ النَّفْسِ، وَتَخْوِيفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا تُعْجِبُهُ فَلْيَقُصَّهَا، إِنْ شَاءَ، وَإِنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلَا يَقُصَّهُ عَلَى أَحَدٍ، وَلْيَقُمْ يُصَلِّي

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبیﷺ نے فرمایا: خواب تین قسم کے ہوتے ہیں: (ایک) اللہ کی طرف سے خوش خبری، (دوسرے) دل کے خیالات اور (تیسرے) شیطان کی طرف سے خوف زدہ کرنے کے لیے (برے اور ڈراؤنے خواب) جب کسی کو ایسا خواب آئے جو اسے اچھا لگے تو اگر وہ چاہے تو اسے (کسی کے سامنے) بیان کردے ۔ اور اگر کوئی ناپسندیدہ چیز نظر آئے تو کسی کو خواب نہ سنائے اور اور اٹھ کر نماز پڑھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت