694 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَقَالَ بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ فِي الْيَوْمِ الْغَيْمِ فَإِنَّهُ مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُهُ
سیدنا بریدہ اسلمی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک جنگ میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ نے فرمایا: ''بادل والے دن نماز جلدی پڑھ لیا کرو کیوں کہ جس کی عصر کی نماز چھوٹ گئی اس کے عمل ضائع ہوگئے۔''
فائدہ: گناہ کی وجہ سے نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں۔عصر کی نماز کا چھوٹ جانا بڑا گناہ ہے۔جس کی وجہ سے دن بھر کے عمل ضائع ہوسکتے ہیںَ۔