1767 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ وَأَبُو إِسْحَقَ الْهَرَوِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ
ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ آخری دس دنوں میں اتنی محنت کرتے تھے جتنی اور دنوں میں نہیں کرتے تھے۔
1۔افضل ایام میں نیک اعمال کا زیادہ اہتمام کر نا چا ہیے 2 رمضان کے آ جری دس دن سب کے سب فضیلت کے حا مل ہیں اسی طرح شب قدر کے علاوہ آ خری عشرے کی با قی را تیں بھی رمضا ن کی دوسری راتو ںکی نسبت افضل ہیں اس لئے ان ایام میں ذکر و تلاو ت و صدقات و خیرات جیسی نیکیو ں میں پہلے سے اضا فہ کر دینا چا ہیے ۔