فهرس الكتاب

الصفحة 2906 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: زند ہ آدمی کی طرف سے حج بدل کرنا جب اسے( خود حج کرنے کی )طاقت نہ ہو

2906 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ قَالَ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ

حضرت ابو زرین عقیلی ؓ سے روایت ہے 'انھوں نے نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:اے اللہ کے رسول!میرے والد بہت بوڑھے ہیں'نہ حج اور عمر ہ ادا کر سکتے ہیں اور نہ سواری پر سوار ہو سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا:''اپنے والد کی طرف سے حجو عمرہ کرو۔''

1۔اگر انتہائی بوڑھے ادمی کے پاس سفر حج مہیا ہو تو اس پر بھی حج فرض ہوجاتا ہے۔

2۔جس شخص بڑھاپے کی وجہ سے سفر نہ کرسکتا ہوتو اس کی طرف سے حج بدل کرنا چاہیے۔

3۔عمرے میں بھی نیابت درست ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت