1290 حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ حَضَرْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا الْعِيدَ ثُمَّ قَالَ قَدْ قَضَيْنَا الصَّلَاةَ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيَجْلِسْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ
عبداللہ بن سائب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز عید میں شریک ہوا، آپ ﷺ نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ''ہم نے نماز پڑھ لی ہے۔ ( اب) جو شخص خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھ جائے اور شخص جانا چاہےچلا جائے۔''
اس سے معلوم ہوا کہ عید کا خطبہ سننا واجب نہیں تاہم افضل یہی ہے کہ خطبہ سن کرجایئں جس طرح صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمعین کیا کرتے تھے۔