فهرس الكتاب

الصفحة 3138 من 4341

کتاب: قربانی سے متعلق احکام ومسائل

باب: کس عمر کے جانور کی قربانی درست ہے؟

3138 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا، فَقَسَمَهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «ضَحِّ بِهِ أَنْتَ»

حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیںکچھ بکریاں دیں جو انہوں نے قربانی کے لیے (رسول اللہ ﷺکے حکم سے ) صحابہ میں تقسیم کردیں ۔ (ان کےپاس ) بکری کا ایک سالہ بچہ (باقی ) رہ گیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی تو آپ نے فرمایا:''اسکی تم قربانی دے دو ۔''

1۔حدیث میں عتود کا لفظ ہےجس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے:جو بچہ خود چرنے چگنے کے قابل ہوجائےاور ماں کا محتاج نہ رہے،

2۔نواب حیدالزمانؒ نے عتود کے معنی ایک سال کا بکری کا بچہ کیے ہیں۔ (ترجمہ حدیث زیر مطالعہ) ہم نے اپنے ترجمہ کو اسی کو اختیار کیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت