646 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ شَيْبَانَ النَّحْوِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ بَكْرٍ أَنَّهَا أُخْبِرَتْ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يَرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ قَالَ إِنَّمَا هِيَ عِرْقٌ أَوْ عُرُوقٌ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى يُرِيدُ بَعْدَ الطُّهْرِ بَعْدَ الْغُسْلِ
سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے بارے میں، جسے پاک ہونے کے بعد کوئی مشکوک چیز نظر آئے ،فرمایا:''وہ ایک رگ ہے''۔ یا فرمایا: ''وہ رگیں ہیں۔''
محمد بن یحیٰ نے کہا:پاک ہونے کے بعد سے مراد غسل کے بعد ہے۔
1۔یہ روایت سندًا ضعیف ہے البتہ دیگر شواہد کی بناء پر معنًا صحیح ہے غالبًا اسی وجہ سے دیگر مھقیقین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
2۔پاک ہونے کا مطلب ہےکہ حیض ختم ہوجانے کے بعد جب غسل کرلے پھر زرد یا مٹیالے رنگ کا پانی نظر آئے تو اسے حیض نہ سمجھے بلکہ وہ ایک بیماری کی سی کیفیت ہے البتہ عادت کے ایام کے اندر اس وقت تک انتظار کرنا چاہیے جب تک رنگ بالکل سفید نہ ہوجائےیاخون بالکل بند نہ ہوجائے۔