3463 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «شِفَاءُ عِرْقِ النَّسَا، أَلْيَةُ شَاةٍ أَعْرَابِيَّةٍ تُذَابُ، ثُمَّ تُجَزَّأُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، ثُمَّ يُشْرَبُ عَلَى الرِّيقِ، فِي كُلِّ يَوْمٍ جُزْءٌ»
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عرق النساکا علاج یہ ہے کہ جنگلی بھیڑ ( یا جنگلی نبے ) کی چکتی کو لے کر پگلالیا جائے ،پھر اس کےتین حصے کر لیے جائیں ، پھر روزانہ ایک حصہ نہار منہ پی لیا جائے ۔''
1۔عرق النساء ایک درد ہے۔جو سرین کے جوڑ سےشروع ہوکر ران کی پچھلی طرف نیچے کی طرف آتا ہے۔بعض اوقات یہ درد ٹخنے تک بھی پہنچ جاتاہے۔مرض جتنا پُراناہوتا جائے ٹانگ اتنی زیادہ متاثر ہوتی جاتی ہے۔جنگلی بھیڑ کاتعین اس لئے کیاگیا ہے۔کہ اس کی خوراک ایسے جنگلی پودے ہیں۔جوگرم تاثیر رکھتے ہیں۔اس بیماری کا سبب گاڑھا چپکنے والا مادہ ہے۔جو اس علاج کے نتیجے میں نرم ہوجاتا ہے۔تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (زاد المعاد باب ھدیہ فی التداوی لنفسہ وغیرہ فصلفی ھدیہ فی علاج عرق النساء 4/65)