فهرس الكتاب

الصفحة 3120 من 4341

کتاب: قربانی سے متعلق احکام ومسائل

باب: اللہ کے رسول ﷺ کی قربانی کا بیان

3120 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَيُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُ بِيَدِهِ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا»

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو چتکبرے او رسینگوں والے مینچھوں کی قربانی دیا کرتے تھے ، اور (ذبح کرتے وقت ) بسم اللہ اور تکبیر پڑھتے تھے ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ،ان کی گردن پر قدم مبارک رکھ کر اپنے ہاتھ سے انہیں ذبح کرتے دیکھا ۔

1۔عید الاضحی کے موقع پر صاحب استطاعت کو کم از کم ایک بکری مینڈھاگائے یا اونٹ کے ایک حصے کی قربانی کرنا ضروری ہے۔

2۔ایک سے زیادہ جانوروں کی قربانی بھی جائز بلکہ افضل ہے۔

3۔گھر کے فرد کو اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانورذبح کرنا چاہیےتاہم کوئی دوسرا شخص بھی ذبح کرسکتا ہے۔

4۔قربانی کا جانور عمدہ اور خوبصورت ہونا چاہیے۔

5۔قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت درج ذیل حدیث میں مذکور دعا پڑھنا مسنون ہےجس کی تفصیل ابتداء میں گزرچکی ہے۔

6۔ذبح کرتے وقت جانور کے جسم پر پاؤن رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ جانور قابو میں رہے۔اور بھاگنے کی کوشش نہ کرے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت