فهرس الكتاب

الصفحة 3083 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: احرام والا کون سا تیل لگاسکتا ہے؟

3083 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «كَانَ يَدَّهِنُ رَأْسَهُ بِالزَّيْتِ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، غَيْرَ الْمُقَتَّتِ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ احرام کی حالت میں اپنے سر میں ایسا تیل ڈال لیتے تھے جس میں خوشبو نہ ہوتی۔

مذکورہ روایت اکثر محققین کے نزدیک سندًا ضعیف ہےتاہم یہی بات صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے موقوفًا ثابت ہے۔ (صحيح البخاريالحجباب الطيب عندالاحرام۔۔۔۔۔حديث:1537) چنانچہ احرام کی حالت میں ایسا تیل استعمال کیا جاسکتا ہے جس میں خوشبو وغیرہ کی ملاوٹ نہ ہو جبکہ حالت احرام میں خوشبو یا خوشبو والا تیل لگانا منع ہے۔تاہم احرام باندھنے سے پہلے خوشبو وغیرہ بھی استعمال کی جاسکتی ہےجیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ انھوں نےرسول اللہﷺ کو احرام باندھنے سے قبل خوشبو لگائی تھی۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الامام احمد:جلد 8 صفحہ نمبر 400'402)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت