فهرس الكتاب

الصفحة 267 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: وضو اورغسل جنابت کے لیے پانی کی مقدار کابیان

267 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ عَنْ سَفِينَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ

سیدہ سفینہ ؓا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ایک مد ( پانی ) سے وضو اور ایک صاع ( پانی) سے غسل کر لیا کرتے تھے۔

صاع پیمائش کا ایک پیمانہ ہے جس کی مقدار 5 رطل اور تہائی رطل ہے۔کلو گرام کے حساب سے اس کی مقدار دوکلو سو گرام اور بعض کے نزدیک ڈھائی کلو ہے۔ (مد) صاع کے چوتھائی کو کہتے ہیںاس کی مقدار پانچ سو پچیس گرام ہے۔مائعات کے لیے صاع تقریبًا دو لیٹر سے کچھ زائد اور مد اس سے چوتھائی سمجھا جاسکتا ہے۔

2۔غسل اور وضو کے لیے یہ مقدار زکر کرنے کا یہ مقصد نہیں کہ اس سے کم یا زیادہ پانی استعمال کرنا جائز نہیں۔مقصد محض ایک اندازہ بیان کرنا ہے۔تاکہ بلاوجہ بہت پانی ضائع نہ کیا جائےبلکہ تھوڑے پانی کو اس طریقے سے استعمال کیا جائےکہ پوری طرح صفائی حاصل ہوجائے،البتہ صدقہ فطر وغیرہ میں صاع سے کم مقدار میں غلہ ادا کرنا درست نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت