فهرس الكتاب

الصفحة 2642 من 4341

کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل

باب: دیت میں سے ترکے کی تقسیم

2642 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا حَتَّى كَتَبَ إِلَيْهِ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا

سعید بن مسیب ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ فرمایا کرتے تھے: دیت عاقلہ کو ملے گی، اور عورت کو اپنے خاوند کی دیت ( خون بہا) سے ترکے والا حصہ نہیں ملے گا حتی کہ ضحاک بن سفیان ؓ نے انہیں خط لکھ کر بتایا کہ نبی ﷺ نے اشیم ضبابی ؓ کی بیوی کو اس کے خاوند کی دیت سے ترکہ دلوایا تھا۔ ( تب عمر ؓ نے رجوع فر لیا۔)

1۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ رائے غالبًا اس بنا پر بھی کہ دیت قاتل کے عصبہ ادا کرتے ہیں، لہذا و ہ مقتول کے عصبہ رشتے داروں کو ملنی چاہیے اور بیوی عصبہ میں شامل نہیں۔2 ۔ صحیح مسئلہ یہ ہے کہ دیت کی رقم بھی دوسرے ترکے کے حکم میں ہے ، لہذا جن جن وارثوں کو عام ترکہ ملتا ہے، انہیں اسی حساب سے دیت کی رقم بھی بطور ترکہ ملے گی۔3۔ صحابۂ کرام ﷢ سے بھی اجتہاد غلطی ممکن ہے ، اس لیے بعد کے علماء وائمہ سے بالاولیٰ غلطی صادر ہوسکتی ہے۔4۔ صحابۂ کرام﷢ حدیث معلوم ہوجانےپر اجتہادی رائے سے رجوع کرلیا کرتےتھے۔ علماء کو یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت