فهرس الكتاب

الصفحة 2972 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: حج قران کرنے والے کا طواف

2972 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ حَارِثٍ الْمُحَارِبِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَطَاءٍ وَطَاوُسٍ وَمُجَاهِدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَطُفْ هُوَ وَأَصْحَابُهُ لِعُمْرَتِهِمْ وَحَجَّتِهِمْ حِينَ قَدِمُوا إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا

حضرت جابر بن عبد اللہ حضرت عبد اللہ عمر اور حضرت عبد اللہ بن عبا س ؓم سے روایت ہے کے رسول اللہ ﷺاور آپ کےصحابہ رضی اللہ جب (مکہ مکرمہ ) تشریف لائے تو انھوں نے اپنے حج اور عمرے (دونوں ) کے لئے صرف ایک ہی طواف کیا تھا ۔

اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قارن (اور اسی طرح مفرد) کے لیے ایک ہی مرتبہ طواف کافی ہے جو دو قدم (آنے) کے وقت کرتا ہے اس کے بعد 10 ذی الحجہ کو اس کے لیے طواف افاضہ کرنا ضروری نہیں جیسے اس روز اس کے لیے سعی ضروری نہیں کیونکہ وہ سعی بھی پہلے طواف کے ساتھ کرچکا ہوتا ہے۔لیکن شیخ ابن باز ؒ نے لکھا ہے کہ دیگر دلائل کی روشنی صحیح ترین قول یہ ہے کہ طواف افاضہ سب کے لیے ضروری ہے چاہے وہ متمتع ہو یا قارن یا مفرد البتہ دوبارہ سعی صرف متمتع کے لیے ہے۔ قارن اور مفرد کے لیے ایک ہی سعی کافی ہے جوکہ طواف قدوم کے وقت کرلی جاتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت