فهرس الكتاب

الصفحة 947 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: کس چیز کے گزرنے سے نماز ٹوٹتی ہے؟

947 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِعَرَفَةَ، فَجِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا، ثُمَّ دَخَلْنَا فِي الصَّفِّ»

سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ میدان عرفات میں نماز پڑھ رہے تھے۔ میں اور فضل ؓ ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے اور ہم صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزرے ، پھر ہم اس سے اترے اور اسے چھوڑ دیا، پھر ہم صف میں شامل ہوگئے۔

اس سے معلوم ہواکہ نمازی کے آگے سے گدھا گزر جائے تو نماز نہیں ٹوٹتی جب کہ حدیث 950۔تا 952) میں آرہا ہے۔کہ گدھے کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ لیکن نماز نہ ٹوٹنے پر اس حدیث سےاستدلال قوی نہیں کیونکہ امام کا سترہ مقتدیوں کے لئے کافی ہوتا ہے اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے امام نبی اکرمﷺ کے سامنے سے نہیں گزرے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت