فهرس الكتاب

الصفحة 695 من 4341

کتاب: نماز سے متعلق احکام ومسائل

باب: نیند یابھول کی وجہ سے نماز چھوٹ جانے کا بیان

695 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يَغْفُلُ عَنْ الصَّلَاةِ أَوْ يَرْقُدُ عَنْهَا قَالَ يُصَلِّيهَا إِذَا ذَكَرَهَا

سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا سویا رہ جائے (تو کیا کرے؟) آپ ﷺ نے فرمایا: ''جب یاد آئے ،اسی وقت نماز پڑھ لے۔''

1۔بھول اور نیند عذر ہے جس کی وجہ سے نماز تاخیر کا گناہ نہیں ہوتا بشرطیکہ اس میں بے پرواہی کو دخل نہ ہو۔

2۔بھول سے رہ جانے والی نماز یاد آنے پر فورًا ادا کرلینی چاہیے بلا وجہ مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے ۔

3۔اگر نیند سے اس وقت بیدار ہو جب نماز کا وقت گزر چکا ہو تو اسی وقت نماز پڑھ لے بشرطیکہ کراہت کا وقت نہ ہو۔ایک حدیث میں ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: (لاتحروا بصلوةكم طلوع الشمس ولا غروبها) ( صحيح البخاري مواقيت الصلاة بعد الفجر حتي ترتفع الشمس حديث:582)

جان بوجھ کر نماز سورج طلوع یا غروب ہوتے وقت نہ پڑھو۔۔ جس شخص کو مکروہ وقت میں نماز یاد آئی یا اس وقت جاگا تو وہ مکروہ وقت گزار کر نماز پڑھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت