403 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ غُرْفَةٍ وَاحِدَةٍ
سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی چلو سے کلی بھی کی اور ناک میں پانی بھی ڈالا
1)حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہاتھ میں پانی لیکر کچھ پانی سے کلی کرلی جائےاور باقی پانی ناک میں ڈال کر ناک صاف کی جائے۔ناک کے لیے اکگ سے پانی نہ لیا جائے۔امام ترمذی ؒ نے فرمایا ہے کہ بعض علماء نے اس طریوے کو بہتر قرار دیا ہے بعض نے دوسرے کو۔امام شافعی ؒنے فرمایا اگر دونوں کا م ایک ہی چلو سے کرلے تو جائز ہے۔لیکن ہمیں الگ الگ پانی لینا زیادہ پسند ہے۔ (جامع الترمذي الطهارة باب المضمضة والاستنشاق من كف واحد حديث:28)
حديث کی رو سے زیادہ بہتر یہی ہے کہ ایک ہی چلو سے کلی کی جائےاور ناک میں پانی ڈالا جائےکیونکہ ایک چلو سے کلی اور ناک صاف کرنے والی روایات سند کے لحاظ سے زیادہ قوی اور مستند ہیں۔