1063 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عُمَرَ قَالَ صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ وَالْجُمُعَةُ رَكْعَتَانِ وَالْعِيدُ رَكْعَتَانِ تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سفر کی نماز دو رکعت ہے، جمعے کی نماز دو رکعت ہے اور عید کی نماز دو رکعت ہے۔ سیدنا محمد ﷺ کی زبان مبارک کی رُو سے یہ مکمل ہیں ، ناقص نہیں۔
1۔ظہر ۔عصر اور عشاء کی نماز میں چار رکعت فرض ہیں لیکن سفر میں تخفیف کردی گئی ہے۔اب سفر میں چار کے بجائے صرف دو رکعت پڑھ لینا کافی ہے۔2۔نماز قصر ادا کرنے سے ثواب میں کمی نہیں ہوتی۔بلکہ چار رکعت کاثواب ملتا ہے۔3۔جمعے کی نماز ظہر کے وقت ادا کی جاتی ہے۔لیکن اس میں چار رکعت کی بجائے دو رکعت ہی فرض ہے۔