فهرس الكتاب

الصفحة 2578 من 4341

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل

باب: بغاوت او رفساد پھیلانے کی سزا

2578 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَقَالَ لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَفَعَلُوا فَارْتَدُّوا عَنْ الْإِسْلَامِ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا ذَوْدَهُ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ فِي طَلَبِهِمْ فَجِيءَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ بِالْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے۔ انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی تو آپ نے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں (کے ریوڑ) میں چلے جاؤ اور ان کے دودھ اور پیشاب پیو (تو بہتر ہو جاؤ گے) ۔ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ پھر (جب وہ صحت یاب ہو گئے تو) وہ اسلام چھوڑ کر مرتد ہو گئے، اور رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو شہید کر دیا۔ اور آپ کے اونٹ ہانک کر لے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی گرفتاری کے لیے چند افراد بھیجے، چنانچہ انہیں (گرفتار کر کے) لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور گرم سلائیوں سے ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ اور انہیں حرہ میں میں چھوڑ دیا حتی کہ وہ مر گئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت