فهرس الكتاب

الصفحة 1310 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: ایک دن میں دو عیدوں کا جمع ہونا

1310 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ هَلْ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ فِي يَوْمٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ قَالَ صَلَّى الْعِيدَ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَالَ مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ

ایاس بن ابو رملہ شامی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ایک آدمی کو زید بن ارقم ؓ سے سوال کرتے سنا: کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک دن میں دو عیدوں ( جمعہ اور عید) میں حاضر ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: پھر رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے؟ فرمایا: آپ ﷺ نے عید کی نماز ادا فرمائی، پھر جمعے کی رخصت دی، پھر فرمایا: ''جو کوئی ( جمعے کی نماز) پڑھنا چاہے پڑھ لے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت