فهرس الكتاب

الصفحة 1954 من 4341

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

باب: نکاح کے وقت شرطیں طے کرنا

1954 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ أَحَقَّ الشَّرْطِ أَنْ يُوفَى بِهِ، مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ»

حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: وہ شرطیں پوری کی جانے کا حق سب سے زیادہ رکھتی ہیں، جن کے ساتھ تم نے عورتوں کی عصمت (اپنے لیے) حلال کی۔

1۔نکاح مرد اور عورت کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس میں کچھ فرائض مردوں پر عائد ہوتے ہیں اور کچھ عورتوں پر ، لہذا مرد و عورت دونوں کو چاہیے کہ ان فرائض کا خیال رکھیں ۔

نکاح کے موقع پر حالات کے مطابق مزید شرطیں رکھی جاسکتی ہیں جن کی وجہ سے عورت کو اس مرد سے نکاح کی ترغیب ہو ، مثلا: مرد کہتا ہے اگر تم نے مجھ سے نکاح کیا تو میں تمہیں اس قدر جیب خرچ دیا کروں گا یا فلاں مکان تمہارے نام الاٹ کردوں گا ۔ نکاح کے بعد مرد کا فرض ہے کہ یہ شرطیں پوری کرے ۔

مرد کو اس قسک کا وعدہ نہیں کرنا چاہیے جس میں شرعا قباحت پائی جائے عورت کو بھی اس قسم کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے مثلا: مرد سے یہ مطالبہ کہ وہ پہلی بیوی کو طلاق دے دے ۔ مرد کو بھی چاہیے کہ عورت سے ناجائز مطالبات نہ کرے ، مثلا: یہ مطالبہ کہ عورت غیر محرموں سے پردہ نہ کرے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت