4144 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَمْكُثُ شَهْرًا مَا نُوقِدُ فِيهِ بِنَارٍ مَا هُوَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ إِلَّا أَنَّ ابْنَ نُمَيْرٍ قَالَ نَلْبَثُ شَهْرًا
حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا:ہم ، آل محمد ﷺ مہینہ مہینہ اس حال میں گزار دیتے تھے کہ آگ نہیں جلاتے تھے۔ (ہمارا کھانا ) صرف کھجوریں اور پانی ہوتا تھا ۔
1۔اس میں نبی ﷺکے زہدٌاستغناء ٌ قناعت اور سادگی کا بیان ہے۔
2۔حیات مبارکہ کے آخری سالوں میں رسول اللہ ﷺ نے سال بھر کے لیے کھجوریں اور جو اکھٹے کرنا شروع کردیے تھے لیکن امہات المومنین سخاوت سے کام لیتے ہوئے جلد ہی خرچ کردیتی تھیں'اس لیے اکثر روٹی سالن اور گوشت وغیرہ کے بغیر گزارہ ہوتا تھا۔بعض اوقات کھجوریں بھی میسر نہیں تھیں۔