3664 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي سَاعِدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمَا قَالَ نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِيفَاءٌ بِعُهُودِهِمَا مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا
حضرت ابو اسید مالک بن ربیعہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ قبیلئہ بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا:اے اللہ کے رسول !کیا میرے والدین سےحسن سلوک کی کوئی صورت باقی ہے جس کے ذریعے سے ان کی وفات کے بعد میں ان سے نیکی کرسکوں؟آپ نے فرمایا: ہاں،ان کے لئے دعا کرنا،ان کے لئے (اللہ سے) بخشش کی درخواست کرنا ، ان کی وفات کے بعد ان کے وعدے پورے کرنا (جو زندگی میں پورے نہ کرسکے ہوں) ان کے دوستوں کا احترام کرنا اور ان رشہ داروں سے صلہ رحمی کرنا جن سے تعلق صرف ان کے واسطے سے ہے۔