1485 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ، عَنْ نُفَيْعٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، وَأَبِي بَرْزَةَ، قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا، أَرْدِيَتَهُمْ يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ؟ أَوْ بِصُنْعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ؟ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ» قَالَ: فَأَخَذُوا أَرْدِيَتَهُمْ، وَلَمْ يَعُودُوا لِذَلِكَ
عمران بن حصین اور ابو برزہ اسلمی ؓ سے روایت ہے، ان دونوں نے کہا: ایک جنازے میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ آپ نے دیکھا کہ کچھ افراد نے ( اوڑھنے والی) چادریں اتار پھینکی ہیں اور صرف قمیصیں پہن کر چل رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' کیا تم جاہلیت کا عمل اختیار کر رہے ہو؟ کیا تم جاہلیت کے کام سے مشابہت اختیار کرتے ہو؟ میرا جی چاہا تھا کہ تمہیں ایسی بددعا دوں کی تمہاری صورتیں تبدیل ہو جائیں۔ '' چنانچہ انہوں نے اپنی چادریں اوڑھ لیں اور دوبارہ یہ غلطی نہیں کی۔
جو کام مسلمانوں میں رائج ہیں مسلمانوں کو انھیں اختیار کرنے سے پرہیز کرنا ضروری ہے غیر مسلموں سے مشابہت حرام ہونے کے دلائل قرآن وحدیث میں موجود ہیں۔اس لئے خوشی کاموقع ہو یا غمی کا یہود نصاریٰ اور ہندووں کے رسم ورواج سے اجتناب کرنا فرض ہے۔