فهرس الكتاب

الصفحة 2827 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب: فوجی دستے

2827 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ مُحَمَّدٌ الصَّنْعَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْعَامِلِيُّ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَكْثَمَ بْنِ الْجَوْنِ الْخُزَاعِيِّ يَا أَكْثَمُ اغْزُ مَعَ غَيْرِ قَوْمِكَ يَحْسُنْ خُلُقُكَ وَتَكْرُمْ عَلَى رُفَقَائِكَ يَا أَكْثَمُ خَيْرُ الرُّفَقَاءِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت اکثم بن جون خزاعی ﷜ سےفرمایا: اکثم! اپنے قبیلے کے سوا دوسروں کے ساتھ مل کر جہاد کر، تیرا اخلاق بہتر ہوجائے گا اور تیرے ساتھیوں کی نظر میں تیری عزت ہوگی۔ اکثم! بہترین ساتھی چار ہیں، بہترین دستہ چار سوکا ہے اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے اور بارہ ہزار (کی فوج) کو تعداد کم ہونے کی وجہ سے شکست نہیں ہوسکتی ۔

مزکورہ روایت ضعیف ہے تاہم دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ سفر میں اکیلے آدمی کو نہیں جانا چاہیے خاص طور پر جب پیدل سفر ہو یا لمبا سفر ہو۔ارشاد نبوی ہے: ایک سوار ایک شیطان ہے دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ایک قافلہ ہے۔ سنن ابي داود الجهاد باب الرجل يسافر وحده حديث:7-62)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت