فهرس الكتاب

الصفحة 2356 من 4341

کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل

باب: مفلس آدمی کو دیوالیہ قرار دے کر اس کا مال بیچ کر قرض خواہوں کو ادائیگی کرنا

2356 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ يَعْنِي الْغُرَمَاءَ

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے (نباغ کے) پھل خریدے جن میں اسے بہت خسارہ ہوا اور وہ بہت مقروض ہو گیا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے صدقہ دو۔ لوگوں نے اسے صدقہ دیا لیکن اس سے اس کا پورا قرض ادا نہیں ہو سکتا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے قرض خواہوں سے فرمایا: تمہیں جو کچھ ملتا ہے لو لو، اس کے سوا تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔

1۔ جس شخص پر اتنا زیادہ قرض ہو جائے کہ وہ ادا کرنے سے قاصر ہو تو صدقات سے اس کی مدد کرنی چاہیے ۔ ایسے شخص کو زکاۃ بھی دی جا سکتی ہے ۔

2۔ اگر قرض زیادہ ہو اور دوسروں کی امداد سے بھی اتنی رقم جمع نہ ہو کہ قرض ادا ہو سکے تو جتنا کچھ موجود ہو وہی قرض خواہوں میں ان کے قرضوں کی نسبت سے تقسیم کر دیا جائے مثلًا: کسی کے پاس کل قرضوں سے نصف رقم ہو تو ہر قرض خواہ کواس کے قرض سے نصف رقم دے دی جائے ۔

3۔ ممکن حد تک وصول ہو جانے کے بعد دیوالیہ سے مزید مطالبہ نہیں کیا جا سکتا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت