فهرس الكتاب

الصفحة 782 من 4341

کتاب: مسجد اور نماز باجماعت کے مسائل

باب: مسجد میں زیادہ دور سے آنے والوں کا ثواب زیادہ ہے

782 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا»

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو مسجد سے زیادہ دور ہو، پھر جو اسے سے بھی زیادہ دور ہو، تو اس کا ثواب پہلے شخص سے بھی زیادہ ہے۔''

1۔اس میں ان لوگوں کے لیے نماز باجماعت کی ترغیب ہے جن کی رہائش مسجد سے دور ہو۔

2۔نیکی کے کاموں میں اگر کچھ مشقت اور مشکل پیش آئے تو اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔کیونکہ مشقت برداچت کرنے والے کو ثواب بھی زیادہ حاصل ہوگا۔

3۔اپنے آپکوخواہ مخواہ مشقت میں ڈالنا شریعت میں مطلوب نہیں تاہم شریعت کی آسانی کے نام سے بے عملی اور سستی کا رویہ اختیار کرنا بھی درست نہیں۔افراط و تفریط سے بچ کر اعتدال کے راستے پر قائم رہنا چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت